نئی دہلی،7 ؍دسمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )نو ٹ بندی کے معاملے پرپارلیمنٹ میں بحث نہیں ہونے دینے کیلئے اپوزیشن پرشدیدحملہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندرمودی نے آج کہاکہ یہ غیر جمہوری ہے اوراس اہم اصلاحی قدم کو حکومت کے مختلف فیصلوں پر بحث ہوئی ہے جوسماج پراثرڈالنے والے رہے ہیں لیکن اب نوٹ بندی جیسے تخلیقی فیصلے پراپوزیشن پارٹیاں ایوان میں تعطل پیدا کر رہی ہیں۔اجلاس کے بعدنامہ نگاروں سے بات چیت میں پارلیمانی امورکے وزیراننت کمار نے اگرچہ یہ نہیں بتایا کہ وزیر اعظم نے ماضی کے کن فیصلوں کا ذکر کیا تھا۔اننت کمار کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان ’’کیش لیس‘‘اور ’’ڈیجیٹل اکنامی‘‘کی طرف بڑھ رہا ہے۔انہوں نے ممبران پارلیمنٹ سے اس کے بارے میں ویسی ہی بیداری پھیلانے کو کہا جیسا وہ الیکشن کے وقت ای وی ایم اور ووٹرلسٹ کے بارے میں کرتے ہیں۔مودی نے کہا کہ افرادی قوت حکومت کے نوٹ بندی کے فیصلے کے ساتھ ہے،کچھ اپوزیشن پارٹیاں جو کر رہی ہیں وہ غیر جمہوری ہے اور اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہئے۔بی جے پی پارلیمانی پارٹی نے ایک قرارداد منظور کی جس میں اپوزیشن جماعتوں کی مذمت کی گئی ہے اور الزام لگایا گیا ہے کہ وہ ’’گول پوسٹ‘‘بدل رہے ہیں۔تجویز میں اس فیصلے کی حمایت کرنے کے لئے عوام کی تعریف کی گئی ہے۔اس تجویز کو وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پیش کیا اور وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے اس کو منظوری کیا۔تجویز میں اپوزیشن جماعتوں سے بات چیت چلنے دینے کی اپیل کی گئی ہے۔